ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے — علامہ محمد اقبال

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھےآتے ہیں جو کام دوسروں کے

hain log wahi jahaan mein achchheaate hain jo kaam doosron ke

  • جہاں jahaanدنیا (the world)
  • آتے ہیں جو کام aate hain jo kaamجو مدد کرتے ہیں (who are of use (to others))

آسان تشریح

نظم کا سبق یہ ہے کہ دنیا میں اچھے لوگ وہی ہیں جو دوسروں کے کام آتے ہیں۔ یہ آخری شعر اکثر الگ سے بھی پڑھا جاتا ہے۔

In plain English

The moral of the poem: the good people in this world are the ones who are of use to others. This closing couplet is often quoted on its own.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ہمدردی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 21۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “hamdardi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 21. It means: The moral of the poem: the good people in this world are the ones who are of use to others. This closing couplet is often quoted on its own.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دوستی، زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار