پہنچوں کس طرح آشیاں تک — علامہ محمد اقبال

پہنچوں کس طرح آشیاں تکہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا

pahunchoon kis tarah aashiyaan takhar cheez pe chha gaya andhera

  • آشیاں aashiyaanگھونسلا (nest)
  • چھا گیا chha gayaپھیل گیا (spread over)

آسان تشریح

بلبل پریشان ہے کہ اب میں اپنے گھونسلے تک کیسے پہنچوں، ہر چیز پر تو اندھیرا چھا گیا ہے۔

In plain English

The bird's worry is simple: how will I reach my nest now, when darkness has covered everything? It feels lost and helpless.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ہمدردی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “hamdardi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 20. It means: The bird's worry is simple: how will I reach my nest now, when darkness has covered everything? It feels lost and helpless.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم، فطرت · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار