دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب — علامہ محمد اقبال

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

duniya ki mehfilon se ukta gaya hoon ya rabkya lutf anjuman ka jab dil hi bujh gaya ho

  • اکتا گیا ukta gayaبیزار ہو گیا (grown weary of)
  • لطف lutfمزہ (pleasure)
  • انجمن anjumanمحفل، مجلس (gathering)
  • بجھ گیا bujh gayaمایوس ہو گیا (has gone dull, dispirited)

آسان تشریح

اے خدا، میں دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں۔ جب دل ہی بجھ جائے تو محفل کا کیا مزہ؟ یعنی اداسی اندر ہے، باہر کی رونق اسے دور نہیں کر سکتی۔

In plain English

O Lord, I am weary of the world's gatherings. What pleasure can company give when the heart itself has gone dark? The problem is inside the poet, not in the crowd.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک آرزو» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 35۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek aarzoo”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 35. It means: O Lord, I am weary of the world's gatherings. What pleasure can company give when the heart itself has gone dark? The problem is inside the poet, not in the crowd.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دل، زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار