ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت — علامہ محمد اقبال

ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

ho mire dam se yoonhi mere watan ki zeenatjis tarah phool se hoti hai chaman ki zeenat

  • زینت zeenatرونق، خوبصورتی (beauty, adornment)
  • وطن watanاپنا ملک (homeland)
  • چمن chamanباغ (garden)

آسان تشریح

بچہ دعا کرتا ہے کہ میرے وجود سے میرے وطن کی رونق اسی طرح بڑھے جیسے پھول سے باغ کی خوبصورتی بڑھتی ہے۔ یعنی اچھا شہری اپنے ملک کے لیے ویسا ہی ہے جیسا باغ کے لیے پھول۔

In plain English

The child wishes to bring honour and beauty to its homeland, just as a flower is what makes a garden beautiful. A good citizen is compared to a flower that adorns the whole garden.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «بچے کی دعا» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “bachche ki duaa”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 19. It means: The child wishes to bring honour and beauty to its homeland, just as a flower is what makes a garden beautiful. A good citizen is compared to a flower that adorns the whole garden.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: وطن اور ملت، نوجوان اور طلبہ · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار