زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب — علامہ محمد اقبال

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا ربعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

zindagi ho miri parwaane ki soorat ya rabilm ki shamaa se ho mujh ko mohabbat ya rab

  • پروانے parwaaneپتنگا جو شمع پر قربان ہو جاتا ہے (moth (drawn to a flame))
  • یا رب ya rabاے خدا (O Lord)
  • علم ilmجاننا، تعلیم (knowledge, learning)

آسان تشریح

اب بچہ دوسری مثال دیتا ہے: میری زندگی پروانے جیسی ہو جو شمع کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ یہاں شمع علم ہے، یعنی مجھے علم سے ایسی محبت ہو کہ میں اس سے کبھی دور نہ رہوں۔

In plain English

Now the child uses a second image: let my life be like a moth, which cannot stay away from the candle's flame. The flame here is knowledge, so the child asks for a deep, lasting love of learning.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «بچے کی دعا» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “bachche ki duaa”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 20. It means: Now the child uses a second image: let my life be like a moth, which cannot stay away from the candle's flame. The flame here is knowledge, so the child asks for a deep, lasting love of learning.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: نوجوان اور طلبہ، عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار