نوجوان اور طلبہ پر اشعار Youth and students

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

bas-ki dushwaar hai har kaam ka aasaan honaaadmi ko bhi muyassar nahin insaan hona

ہر کام کا آسان ہونا اتنا مشکل ہے کہ آدمی کو بھی سچا انسان بننا نصیب نہیں ہوتا۔ یعنی آدمی پیدا ہونا آسان ہے، مگر حقیقی انسانیت کے ساتھ جینا عمر بھر کی محنت ہے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 16 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدسنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

main ne Majnoon pe ladakpan mein Asadsang uthaaya tha ki sar yaad aaya

اسد! بچپن میں میں نے مجنوں کو مارنے کے لیے پتھر اٹھایا تھا کہ اپنا سر یاد آ گیا۔ بچے دیوانے پر پتھر پھینکتے تھے؛ شاعر کو خیال آیا کہ ایک دن وہ بھی ایسا ہی عاشق ہوگا اور یہی پتھر اس کے سر پر پڑیں گے۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 34 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نامہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا

peshe mein aib nahin, rakhiye na Farhaad ko naamhum hi aashufta-saron mein woh jawaan Mir bhi tha

پیشے میں کوئی عیب نہیں، فرہاد کو سنگ تراش ہونے کا طعنہ نہ دیجیے۔ ہم دیوانوں میں وہ بھی ایک بہادر نوجوان تھا۔ شاعر فرہاد کی طرف داری کرتا ہے جس نے عشق میں پہاڑ کاٹا تھا۔

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 35 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

کب کیا کیونکر کیا یہ پوچھتا کوئی نہیںبلکہ ہیں یہ دیکھتے جو کچھ کیا کیسا کیا

kab kiyaa kyoonkar kiyaa ye poochhtaa koi nahinbalke hain ye dekhte jo kuchh kiyaa kaisaa kiyaa

کوئی نہیں پوچھتا کہ کام کب کیا اور کیسے کیا۔ لوگ تو یہ دیکھتے ہیں کہ جو کچھ کیا وہ کیسا کیا۔ حالی طالب علموں اور کام کرنے والوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ رفتار سے پہلے معیار کو رکھیں۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 37 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

غرور زید کی کرتا ہے گر شکایت عمروتو سمجھو کرتا ہے اپنے غرور کا اظہار

ghuroor zaid ki kartaa hai gar shikaayat amrto samjho kartaa hai apne ghuroor kaa izhaar

زید اور عمرو عربی اور اردو کی مثالوں کے روایتی فرضی نام ہیں، جیسے “فلاں اور فلاں”۔ حالی کہتے ہیں کہ اگر عمرو، زید کے غرور کی شکایت کرے تو سمجھ لو کہ وہ دراصل اپنے غرور کا اظہار کر رہا ہے۔ دوسرے کی بڑائی سے چڑنا اکثر اس بات کی نشانی ہے کہ ہماری اپنی انا کو ٹھیس لگی ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 37 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

جنھوں نے آپ کو سب سے سمجھ لیا ہے بڑابڑائی دیکھ نہیں سکتے غیر کی زنہار

jinhon ne aap ko sab se samajh liyaa hai baraabaraai dekh nahin sakte ghair ki zinhaar

جنھوں نے خود کو سب سے بڑا سمجھ لیا ہے وہ کسی دوسرے کی بڑائی ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ دوسرا شعر پہلے کی وضاحت کرتا ہے کہ دوسروں کے غرور کی شکایت دراصل خود کو بہت بڑا سمجھنے کی علامت ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 37 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں

hai justujoo ke khoob se hai khoob-tar kahaanab thahrti hai dekhiye jaa kar nazar kahaan

تلاش جاری ہے کہ اچھے سے بھی اچھا کہاں ہے؟ اب دیکھیے نظر آخر جا کر کہاں ٹھہرتی ہے۔ حالی ایک بے چین ذہن کی تصویر کھینچتے ہیں جو کبھی “کافی اچھا” پر مطمئن نہیں ہوتا۔ یہ شعر ہمت، شوق اور کمال کی تلاش کے لیے اکثر پڑھا جاتا ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 87 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

حالی نشاط نغمہ و مے ڈھونڈتے ہو ابآئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں

haali nishaat-e-naghma-o-mai dhoondte ho abaae ho waqt-e-subh rahe raat bhar kahaan

مقطع میں حالی خود کو چھیڑتے ہیں: اے حالی، اب تم نغمے اور شراب کی رونق ڈھونڈتے ہو؟ تم صبح کے وقت آئے ہو جب محفل ختم ہو چکی، رات بھر کہاں رہے؟ یہ گزری ہوئی جوانی کا نرم سا سبق ہے کہ بعض چیزوں کا وقت گزر جاتا ہے اور دیر سے پہنچنے والا انھیں کھو دیتا ہے۔

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 88 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

lab pe aati hai duaa ban ke tamanna merizindagi shamaa ki soorat ho khudaaya meri

بچہ کہتا ہے کہ میری آرزو دعا بن کر ہونٹوں پر آتی ہے۔ دعا یہ ہے کہ اے خدا میری زندگی شمع جیسی ہو۔ شمع خود جلتی ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتی ہے، اسی طرح میری زندگی بھی دوسروں کے کام آئے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائےہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

door duniya ka mire dam se andhera ho jaayehar jagah mere chamakne se ujaala ho jaaye

بچہ شمع کی مثال آگے بڑھاتا ہے: میرے وجود سے دنیا کا اندھیرا دور ہو جائے اور میرے چمکنے سے ہر جگہ روشنی پھیل جائے۔ یہاں اندھیرے سے مراد جہالت اور برائی ہے اور روشنی سے مراد علم اور نیکی۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

ho mire dam se yoonhi mere watan ki zeenatjis tarah phool se hoti hai chaman ki zeenat

بچہ دعا کرتا ہے کہ میرے وجود سے میرے وطن کی رونق اسی طرح بڑھے جیسے پھول سے باغ کی خوبصورتی بڑھتی ہے۔ یعنی اچھا شہری اپنے ملک کے لیے ویسا ہی ہے جیسا باغ کے لیے پھول۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 19 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا ربعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

zindagi ho miri parwaane ki soorat ya rabilm ki shamaa se ho mujh ko mohabbat ya rab

اب بچہ دوسری مثال دیتا ہے: میری زندگی پروانے جیسی ہو جو شمع کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ یہاں شمع علم ہے، یعنی مجھے علم سے ایسی محبت ہو کہ میں اس سے کبھی دور نہ رہوں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

مرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کونیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

mire allah buraai se bachaana mujh konek jo raah ho us rah pe chalaana mujh ko

دعا کا اختتام حفاظت کی درخواست پر ہوتا ہے: اے میرے اللہ مجھے برائی سے بچا، اور جو راستہ نیکی کا ہو اسی پر مجھے چلا۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 20 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

sabaq phir parh sadaaqat ka adaalat ka shujaa'at kaliya jaaye ga tujh se kaam duniya ki imaamat ka

پھر سے سچائی، انصاف اور بہادری کا سبق پڑھ، کیونکہ تجھ سے دنیا کی رہنمائی کا کام لیا جائے گا۔ قیادت انہی تین خوبیوں سے ملتی ہے۔ یہ شعر اسکول کی تقریروں میں بہت پڑھا جاتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 307 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

yaqeen mohkam amal paiham mohabbat faatih-e-aalamjihaad-e-zindagaani mein hain yeh mardon ki shamsheeren

مضبوط یقین، لگاتار عمل اور دنیا کو جیت لینے والی محبت: زندگی کی جدوجہد میں یہی بہادر لوگوں کی تلواریں ہیں۔ پہلا مصرع پاکستان میں سب سے زیادہ دہرائے جانے والے جملوں میں سے ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 310 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

amal se zindagi banti hai jannat bhi jahannam bhiyeh khaaki apni fitrat mein na noori hai na naari hai

عمل ہی سے زندگی جنت بھی بنتی ہے اور جہنم بھی؛ یہ مٹی کا انسان اپنی فطرت میں نہ فرشتہ ہے نہ شیطان۔ یعنی انسان اپنے کاموں سے اچھا یا برا بنتا ہے۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 313 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ

سعی پیہم ہے ترازوئے کم و کیف حیاتتیری میزاں ہے شمار سحر و شام ابھی

sa'i-e-paiham hai taraazoo-e-kam-o-kaif-e-hayaatteri meezaan hai shumaar-e-sahar-o-shaam abhi

لگاتار کوشش ہی وہ ترازو ہے جس پر زندگی کی مقدار اور معیار تولا جاتا ہے، مگر تو ابھی زندگی کو صبح و شام گن کر ناپتا ہے۔ یعنی زندگی کی قدر عمل سے ہے، دنوں کی گنتی سے نہیں۔

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 318 · الفاظ کے معنی، تشریح اور کارڈ