عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی — علامہ محمد اقبال

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

amal se zindagi banti hai jannat bhi jahannam bhiyeh khaaki apni fitrat mein na noori hai na naari hai

  • عمل amalکام، کردار (deeds, action)
  • خاکی khaakiمٹی سے بنا، انسان (made of earth, the human being)
  • نوری nooriنور سے بنا، فرشتہ (made of light, angelic)
  • ناری naariآگ سے بنا، شیطانی (made of fire, devilish)

آسان تشریح

عمل ہی سے زندگی جنت بھی بنتی ہے اور جہنم بھی؛ یہ مٹی کا انسان اپنی فطرت میں نہ فرشتہ ہے نہ شیطان۔ یعنی انسان اپنے کاموں سے اچھا یا برا بنتا ہے۔

In plain English

Our deeds make life either a heaven or a hell; by nature this creature of clay is neither angel (made of light) nor devil (made of fire). A human being becomes good or bad through what he does.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 313
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «طلوع اسلام» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 313۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “tuloo-e-islaam”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 313. It means: Our deeds make life either a heaven or a hell; by nature this creature of clay is neither angel (made of light) nor devil (made of fire). A human being becomes good or bad through what he does.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی، نوجوان اور طلبہ · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار