علامہ محمد اقبال کی نظم (منتخب اشعار: ۱۰)

طلوع اسلام

Tuloo-e-islaam — The Dawn of Islam · Nazm by Allama Muhammad Iqbal

بانگ درا کے آخر کی ایک طویل نظم، جو نئی بیداری کی امید سے بھری ہے۔ یہاں اس کے 10 اشعار کتاب کی ترتیب سے ہیں؛ نمبر ہمارے انتخاب کے ہیں، پوری نظم کے نہیں۔

A long poem near the end of Bang-e-Dra, full of hope for a revival. We carry 10 couplets, in the book's order; the numbers here count our selection, not the full poem.

یہ نظم علامہ محمد اقبال کی ہے اور یہاں بانگ درا (اشاعت دوم) (1926) کے صفحہ ۳۰۳، ۳۰۴، ۳۰۶، ۳۰۷، ۳۰۹، ۳۱۰، ۳۱۳ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This nazm is by Allama Muhammad Iqbal, from Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 303, 304, 306, 307, 309, 310, 313.

دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی

daleel-e-subh-e-raushan hai sitaaron ki tunuk-taabiufuq se aaftaab ubhra gaya daur-e-giraan-khwaabi

  • دلیل daleelثبوت، نشانی (sign, proof)
  • تنک تابی tunuk-taabiمدھم چمک (faint glimmer)
  • افق ufuqآسمان کا کنارہ (horizon)
  • گراں خوابی giraan-khwaabiگہری نیند (heavy sleep)

آسان تشریح

ستاروں کی مدھم ہوتی چمک اس بات کی نشانی ہے کہ روشن صبح آنے والی ہے؛ افق سے سورج ابھر آیا اور گہری نیند کا دور ختم ہوا۔ رات زوال کی علامت ہے اور صبح بیداری کی۔

In plain English

The fading glimmer of the stars is a sign that a bright morning is near; the sun has risen over the horizon and the age of heavy sleep is over. Night stands for decline and morning for awakening.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 303 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

musalmaan ko musalmaan kar diya toofaan-e-maghrib netalaatum-haa-e-dariya hi se hai gauhar ki seeraabi

  • طوفان مغرب toofaan-e-maghribمغرب کی طرف سے آنے والی آزمائش (the storm from the West)
  • تلاطم talaatumموجوں کا زور (the surging of waves)
  • گوہر gauharموتی (pearl)
  • سیرابی seeraabiتازگی، چمک (freshness, lustre)

آسان تشریح

مغرب کے طوفان نے مسلمان کو پھر سے سچا مسلمان بنا دیا، جیسے موتی کو چمک دریا کی موجوں کے تھپیڑوں ہی سے ملتی ہے۔ یعنی آزمائش نے بیدار کیا اور پہچان مضبوط کی۔

In plain English

The storm from the West made the Muslim a true Muslim again, just as a pearl gets its lustre from the stormy sea. Hardship woke people up and strengthened their identity.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 304 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

hazaaron saal nargis apni be-noori pe roti haibari mushkil se hota hai chaman mein deeda-war paida

  • نرگس nargisایک پھول جسے آنکھ سے تشبیہ دیتے ہیں (the narcissus flower)
  • بے نوری be-nooriبینائی نہ ہونا (blindness, lack of sight)
  • دیدہ ور deeda-warصاحب نظر، بصیرت والا (a person of true vision)

آسان تشریح

نرگس کا پھول ہزاروں سال اپنی بے نوری پر روتا ہے؛ بڑی مشکل سے باغ میں کوئی دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔ شاعری میں نرگس کو آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے جو دیکھ نہیں سکتی۔ یعنی صاحب بصیرت لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔

In plain English

For thousands of years the narcissus weeps over its blindness; only with great difficulty is a person of true vision born in the garden. Poets compare the narcissus to an eye that cannot see. Great visionaries are rare.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 306 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے

khuda-e-lam-yazal ka dast-e-qudrat tu zabaan tu haiyaqeen paida kar ae ghaafil ki maghloob-e-gumaan tu hai

  • لم یزل lam-yazalہمیشہ رہنے والا (eternal)
  • دست قدرت dast-e-qudratقدرت کا ہاتھ (the hand of power)
  • غافل ghaafilبے خبر (heedless one)
  • مغلوب گماں maghloob-e-gumaanشک کا شکار (overcome by doubt)

آسان تشریح

تو ہمیشہ رہنے والے خدا کی قدرت کا ہاتھ اور اس کی زبان ہے؛ اے غافل، یقین پیدا کر، کیونکہ تجھ پر شک غالب آ گیا ہے۔

In plain English

You are the hand and the voice of the eternal God's power; so build certainty, heedless one, because doubt has overpowered you. Iqbal tells the believer how great his role is, and that only doubt holds him back.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 306 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

sabaq phir parh sadaaqat ka adaalat ka shujaa'at kaliya jaaye ga tujh se kaam duniya ki imaamat ka

  • سبق sabaqدرس (lesson)
  • صداقت sadaaqatسچائی (truthfulness)
  • عدالت adaalatانصاف (justice)
  • شجاعت shujaa'atبہادری (courage)
  • امامت imaamatرہنمائی، قیادت (leadership)

آسان تشریح

پھر سے سچائی، انصاف اور بہادری کا سبق پڑھ، کیونکہ تجھ سے دنیا کی رہنمائی کا کام لیا جائے گا۔ قیادت انہی تین خوبیوں سے ملتی ہے۔ یہ شعر اسکول کی تقریروں میں بہت پڑھا جاتا ہے۔

In plain English

Learn again the lesson of truth, justice and courage, because you will be asked to lead the world. Leadership is earned through these three qualities. This couplet is often quoted in school speeches.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 307 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی

yahi maqsood-e-fitrat hai yahi ramz-e-musalmaaniukhuwwat ki jahaangeeri mohabbat ki faraawaani

  • مقصود فطرت maqsood-e-fitratقدرت کا مقصد (nature's purpose)
  • رمز ramzراز، بھید (secret, essence)
  • اخوت ukhuwwatبھائی چارہ (brotherhood)
  • فراوانی faraawaaniکثرت (abundance)

آسان تشریح

قدرت کا مقصد اور مسلمانی کا راز یہی ہے: ایسا بھائی چارہ جو ساری دنیا کو اپنے دائرے میں لے لے، اور محبت کی کثرت۔

In plain English

This is nature's purpose and the secret of being a Muslim: brotherhood that embraces the whole world, and love in abundance. Iqbal defines the faith by fellowship and love.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 307 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

ghulaami mein na kaam aati hain shamsheeren na tadbeerenjo ho zauq-e-yaqeen paida to kat jaati hain zanjeeren

  • غلامی ghulaamiمحکومی، آزادی نہ ہونا (servitude)
  • شمشیریں shamsheerenتلواریں (swords)
  • تدبیریں tadbeerenمنصوبے، کوششیں (plans, schemes)
  • ذوق یقیں zauq-e-yaqeenیقین کی لگن (the taste for certainty, firm faith)

آسان تشریح

غلامی میں نہ تلواریں کام آتی ہیں نہ تدبیریں؛ لیکن اگر یقین کا ذوق پیدا ہو جائے تو زنجیریں کٹ جاتی ہیں۔ یعنی اندر کا یقین ہتھیار سے زیادہ طاقتور ہے۔

In plain English

In servitude neither swords nor clever plans are of any use; but once firm conviction is born, the chains break. Inner certainty matters more than weapons.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 309 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

koi andaaza kar sakta hai us ke zor-e-baazoo kanigaah-e-mard-e-momin se badal jaati hain taqdeeren

  • اندازہ andaazaتخمینہ (estimate, measure)
  • زور بازو zor-e-baazooبازو کی طاقت (strength of arm)
  • مرد مومن mard-e-mominسچا ایمان والا انسان (the true believer)
  • تقدیریں taqdeerenمقدر (destinies)

آسان تشریح

کیا کوئی اس کے بازو کی طاقت کا اندازہ کر سکتا ہے؟ سچے مومن کی نگاہ سے تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ اقبال کا مثالی انسان تقدیر کا انتظار نہیں کرتا، اسے بدلتا ہے۔

In plain English

Can anyone measure the strength of his arm? A single glance from the true believer changes destinies. Iqbal's ideal person shapes fate rather than waiting for it.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 309 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

yaqeen mohkam amal paiham mohabbat faatih-e-aalamjihaad-e-zindagaani mein hain yeh mardon ki shamsheeren

  • محکم mohkamمضبوط (firm)
  • پیہم paihamلگاتار (constant)
  • فاتح عالم faatih-e-aalamدنیا کو جیتنے والی (conquering the world)
  • جہاد زندگانی jihaad-e-zindagaaniزندگی کی جدوجہد (the struggle of life)

آسان تشریح

مضبوط یقین، لگاتار عمل اور دنیا کو جیت لینے والی محبت: زندگی کی جدوجہد میں یہی بہادر لوگوں کی تلواریں ہیں۔ پہلا مصرع پاکستان میں سب سے زیادہ دہرائے جانے والے جملوں میں سے ہے۔

In plain English

Firm faith, constant effort and world-conquering love: in the struggle of life, these are the swords of brave people. Three qualities are named as the real tools of success. The first half-line is one of the most quoted phrases in Pakistan.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 310 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

amal se zindagi banti hai jannat bhi jahannam bhiyeh khaaki apni fitrat mein na noori hai na naari hai

  • عمل amalکام، کردار (deeds, action)
  • خاکی khaakiمٹی سے بنا، انسان (made of earth, the human being)
  • نوری nooriنور سے بنا، فرشتہ (made of light, angelic)
  • ناری naariآگ سے بنا، شیطانی (made of fire, devilish)

آسان تشریح

عمل ہی سے زندگی جنت بھی بنتی ہے اور جہنم بھی؛ یہ مٹی کا انسان اپنی فطرت میں نہ فرشتہ ہے نہ شیطان۔ یعنی انسان اپنے کاموں سے اچھا یا برا بنتا ہے۔

In plain English

Our deeds make life either a heaven or a hell; by nature this creature of clay is neither angel (made of light) nor devil (made of fire). A human being becomes good or bad through what he does.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 313 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
بانگ درا (اشاعت دوم) · Bang-e-Dra (second printing) · Not legible on the scanned title page، Not stated on the scanned pages 1926
صفحات
303، 304، 306، 307، 309، 310، 313 · اسکین ۱، اسکین ۲، اسکین ۳، اسکین ۴، اسکین ۵، اسکین ۶، اسکین ۷
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

علامہ محمد اقبال کا مزید کلام