غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں — علامہ محمد اقبال

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

ghulaami mein na kaam aati hain shamsheeren na tadbeerenjo ho zauq-e-yaqeen paida to kat jaati hain zanjeeren

  • غلامی ghulaamiمحکومی، آزادی نہ ہونا (servitude)
  • شمشیریں shamsheerenتلواریں (swords)
  • تدبیریں tadbeerenمنصوبے، کوششیں (plans, schemes)
  • ذوق یقیں zauq-e-yaqeenیقین کی لگن (the taste for certainty, firm faith)

آسان تشریح

غلامی میں نہ تلواریں کام آتی ہیں نہ تدبیریں؛ لیکن اگر یقین کا ذوق پیدا ہو جائے تو زنجیریں کٹ جاتی ہیں۔ یعنی اندر کا یقین ہتھیار سے زیادہ طاقتور ہے۔

In plain English

In servitude neither swords nor clever plans are of any use; but once firm conviction is born, the chains break. Inner certainty matters more than weapons.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 309
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «طلوع اسلام» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 309۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “tuloo-e-islaam”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 309. It means: In servitude neither swords nor clever plans are of any use; but once firm conviction is born, the chains break. Inner certainty matters more than weapons.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: خودی، ایمان اور خدا · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار