گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں — علامہ محمد اقبال

گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاںگلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا

godi mein khelti hain is ki hazaaron nadiyaangulshan hai jin ke dam se rashk-e-jinaan hamaara

  • گودی godiگود (lap)
  • ندیاں nadiyaanدریا (rivers)
  • رشک جناں rashk-e-jinaanجس پر جنت بھی رشک کرے (the envy of paradise)

آسان تشریح

اس کی گود میں ہزاروں ندیاں کھیلتی ہیں جن کی وجہ سے ہمارا باغ ایسا ہے کہ جنت بھی اس پر رشک کرے۔

In plain English

Thousands of rivers play in its lap, and because of them our garden is the envy of paradise. The rivers keep the land green and fertile.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ترانۂ ہندی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “taraana-e-hindi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 82. It means: Thousands of rivers play in its lap, and because of them our garden is the envy of paradise. The rivers keep the land green and fertile.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: وطن اور ملت، فطرت · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار