جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہے — علامہ محمد اقبال

جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہےدل غم کو کھا رہا ہے غم دل کو کھا رہا ہے

jab se chaman chhuta hai yeh haal ho gaya haidil gham ko kha raha hai gham dil ko kha raha hai

  • چمن chamanباغ (garden)
  • چھٹا chhutaچھوٹ گیا، بچھڑ گیا (was left behind)

آسان تشریح

جب سے باغ چھوٹا ہے میرا یہ حال ہے کہ دل غم کو کھا رہا ہے اور غم دل کو کھا رہا ہے۔ یعنی دکھ اندر ہی اندر بڑھتا جا رہا ہے۔

In plain English

Since I lost my garden, this has been my state: my heart swallows its grief, and the grief eats away my heart. The repeated phrase shows sorrow feeding on itself.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 24
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «پرندے کی فریاد» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 24۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “parinde ki fariyaad”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 24. It means: Since I lost my garden, this has been my state: my heart swallows its grief, and the grief eats away my heart. The repeated phrase shows sorrow feeding on itself.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم، دل · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار