اقبال کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں — علامہ محمد اقبال

اقبال کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میںمعلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا

iqbaal koi mehram apna nahin jahaan meinmaaloom kya kisi ko dard-e-nihaan hamaara

  • محرم mehramراز دار (confidant)
  • درد نہاں dard-e-nihaanچھپا ہوا دکھ (hidden pain)

آسان تشریح

اے اقبال، دنیا میں ہمارا کوئی راز دار نہیں؛ کسی کو ہمارے چھپے ہوئے درد کا کیا پتا؟ فخر کے اشعار کے بعد نظم ایک خاموش ذاتی دکھ پر ختم ہوتی ہے۔

In plain English

Iqbal, we have no confidant in the world; who could know our hidden pain? After the proud verses, the poem ends on a quiet personal note of sorrow.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ترانۂ ہندی» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 82۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “taraana-e-hindi”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 82. It means: Iqbal, we have no confidant in the world; who could know our hidden pain? After the proud verses, the poem ends on a quiet personal note of sorrow.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم، دل · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار