غیر لیں محفل میں بوسے جام کے — مرزا غالب

غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے

ghair len mehfil mein bose jaam kehum rahen yun tishna-lab paighaam ke

  • غیر ghairرقیب، دوسرا (the rival, a stranger)
  • جام jaamپیالہ (cup)
  • تشنہ لب tishna-labپیاسا، ترستا ہوا (thirsty, longing)

آسان تشریح

محفل میں رقیب جام کو چومیں اور ہم ایک پیغام کو بھی ترستے رہیں! دوسرے محبوب کی صحبت کا لطف اٹھاتے ہیں اور عاشق کو ایک بات بھی نصیب نہیں۔

In plain English

In the gathering the rivals kiss the cup, while I remain thirsty even for a message. Others enjoy the beloved's company; the lover does not get even a word.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «غیر لیں محفل میں بوسے جام کے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ghair len mehfil mein bose jaam ke”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 170. It means: In the gathering the rivals kiss the cup, while I remain thirsty even for a message. Others enjoy the beloved's company; the lover does not get even a word.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق، غم · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار