خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ — مرزا غالب

خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے

khastagi ka tum se kya shikwa ki yehathkande hain charkh-e-neeli-faam ke

  • خستگی khastagiتباہ حالی (wretchedness)
  • ہتھکنڈے hathkandeچالیں (tricks)
  • چرخِ نیلی فام charkh-e-neeli-faamنیلا آسمان، قسمت (the blue sky, i.e. fate)

آسان تشریح

اپنی بربادی کا تم سے کیا شکوہ کریں، یہ تو نیلے آسمان یعنی قسمت کی چالیں ہیں۔ عاشق محبوب کو الزام دینے کے بجائے قسمت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

In plain English

Why should I complain to you about my ruin? These are the tricks of the blue sky, of fate itself. The lover blames fortune so as not to blame the beloved.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «غیر لیں محفل میں بوسے جام کے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ghair len mehfil mein bose jaam ke”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 170. It means: Why should I complain to you about my ruin? These are the tricks of the blue sky, of fate itself. The lover blames fortune so as not to blame the beloved.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم، وقت اور زمانہ · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار