Ghair Len Mehfil Mein Bose Jaam Ke · Ghazal by Mirza Ghalib
یہ غزل مرزا غالب کی ہے اور یہاں دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925) کے صفحہ ۱۷۰، ۱۷۱ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This ghazal is by Mirza Ghalib, from Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 170, 171.
غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
ghair len mehfil mein bose jaam kehum rahen yun tishna-lab paighaam ke
غیرghairرقیب، دوسرا (the rival, a stranger)
جامjaamپیالہ (cup)
تشنہ لبtishna-labپیاسا، ترستا ہوا (thirsty, longing)
آسان تشریح
محفل میں رقیب جام کو چومیں اور ہم ایک پیغام کو بھی ترستے رہیں! دوسرے محبوب کی صحبت کا لطف اٹھاتے ہیں اور عاشق کو ایک بات بھی نصیب نہیں۔
In plain English
In the gathering the rivals kiss the cup, while I remain thirsty even for a message. Others enjoy the beloved's company; the lover does not get even a word.
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · اس شعر کا صفحہ
خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے
khastagi ka tum se kya shikwa ki yehathkande hain charkh-e-neeli-faam ke
خستگیkhastagiتباہ حالی (wretchedness)
ہتھکنڈےhathkandeچالیں (tricks)
چرخِ نیلی فامcharkh-e-neeli-faamنیلا آسمان، قسمت (the blue sky, i.e. fate)
آسان تشریح
اپنی بربادی کا تم سے کیا شکوہ کریں، یہ تو نیلے آسمان یعنی قسمت کی چالیں ہیں۔ عاشق محبوب کو الزام دینے کے بجائے قسمت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
In plain English
Why should I complain to you about my ruin? These are the tricks of the blue sky, of fate itself. The lover blames fortune so as not to blame the beloved.
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · اس شعر کا صفحہ
خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہوہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
khat likhenge garche matlab kuchh na hohum to aashiq hain tumhaare naam ke
گرچہgarcheاگرچہ (even though)
مطلبmatlabکام، غرض (purpose)
آسان تشریح
ہم خط لکھیں گے چاہے کوئی کام نہ ہو، ہم تو تمہارے نام کے بھی عاشق ہیں۔ یعنی لفافے پر محبوب کا نام لکھنا ہی خط لکھنے کی کافی وجہ ہے۔
In plain English
I will write you letters even if I have nothing to say. I am in love with your very name. Writing the beloved's name on the envelope is reason enough to write.
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · اس شعر کا صفحہ
دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگریہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے
dil ko aankhon ne phansaaya kya magarye bhi halqe hain tumhaare daam ke
پھنسایاphansaayaجال میں پکڑا (trapped)
حلقےhalqeجال کے گھیرے؛ آنکھوں کے حلقے (the loops of a net; also eye-sockets)
دامdaamجال (a net, snare)
آسان تشریح
کیا میری آنکھوں نے میرے دل کو پھنسایا؟ مگر یہ آنکھیں بھی تو تمہارے جال کے حلقے ہیں۔ حلقہ کے دو معنی ہیں، جال کا گھیرا اور آنکھ کا حلقہ؛ عاشق کی اپنی آنکھیں بھی محبوب کے لیے کام کر رہی ہیں۔
In plain English
Did my eyes trap my heart? But these eyes, too, are loops of your net. 'Halqa' means both a loop of a net and the circle of an eye; the lover's own eyes are working for the beloved.
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 170 · اس شعر کا صفحہ
عشق نے غالب نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
ishq ne Ghalib nikamma kar diyawarna hum bhi aadmi the kaam ke
نکماnikammaبے کار، کسی کام کا نہ رہنا (useless, good for nothing)
آسان تشریح
عشق نے غالب کو نکما کر دیا، ورنہ ہم بھی کام کے آدمی تھے۔ شاعر مزاح سے کہتا ہے کہ عشق نے پوری زندگی پر قبضہ کر لیا۔ یہ اردو کے سب سے زیادہ دہرائے جانے والے مصرعوں میں سے ہے۔
In plain English
Love has made Ghalib good for nothing; otherwise I too was a useful man. The poet jokes that love took over his whole life. One of the most quoted lines in Urdu.
مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 171 · اس شعر کا صفحہ