قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں — علامہ محمد اقبال

قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میںنری بڑائی ہے خوبی ہے اور کیا تجھ میں

qadam uthaane ki taaqat nahin zara tujh meinnari baraai hai khoobi hai aur kya tujh mein

  • قدم qadamپاؤں، قدم (step)
  • نری nariصرف، محض (mere, nothing but)
  • بڑائی baraaiبڑا ہونا (bigness)

آسان تشریح

تم میں ایک قدم اٹھانے کی بھی طاقت نہیں۔ تم میں صرف بڑائی ہے، اس کے سوا اور کیا خوبی ہے؟

In plain English

You do not have the strength to take a single step. You are nothing but size; what other quality do you have? The squirrel points out what the mountain cannot do.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک پہاڑ اور گلہری» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek pahaar aur gilahri”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 16. It means: You do not have the strength to take a single step. You are nothing but size; what other quality do you have? The squirrel points out what the mountain cannot do.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: خودی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار