نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں — علامہ محمد اقبال

نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میںکوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

nahin hai cheez nikammi koi zamaane meinkoi bura nahin qudrat ke kaarkhaane mein

  • نکمی nikammiبے کار (useless)
  • زمانے zamaaneدنیا (the world)
  • کارخانے kaarkhaaneکام کی جگہ، نظام (workshop, scheme)

آسان تشریح

نظم کا سبق یہ ہے کہ دنیا میں کوئی چیز بے کار نہیں، اور قدرت کے کارخانے میں کوئی برا نہیں۔ ہر مخلوق کا اپنا مقام اور مقصد ہے۔

In plain English

The moral: nothing in the world is useless, and nothing in nature's workshop is bad. Every creature has its place and purpose.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «ایک پہاڑ اور گلہری» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 16۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “ek pahaar aur gilahri”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 16. It means: The moral: nothing in the world is useless, and nothing in nature's workshop is bad. Every creature has its place and purpose.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: فطرت، زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار