ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا — مرزا غالب

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتاوگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

hua hai sheh ka musaahib phire hai itraatawagarna shehr mein Ghalib ki aabroo kya hai

  • شہ shehبادشاہ (the king)
  • مصاحب musaahibساتھی، درباری (a companion at court)
  • اتراتا itraataفخر کرتا ہوا، اکڑتا (strutting proudly)
  • آبرو aabrooعزت (honour, standing)

آسان تشریح

غالب بادشاہ کا درباری بن گیا ہے تو اکڑتا پھرتا ہے، ورنہ شہر میں اس کی عزت ہی کیا ہے؟ مقطع میں شاعر خود پر طنز کرتا ہے، اور شاید ان لوگوں پر بھی جو ہنر سے زیادہ دربار کے تعلق کو اہمیت دیتے ہیں۔

In plain English

Ghalib has become a companion of the king and struts about proudly; otherwise, what standing does he have in the city? The maqta mocks the poet himself, and perhaps those who value court connections over talent.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 164
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 164۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “har ek baat pe kehte ho tum ki tu kya hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 164. It means: Ghalib has become a companion of the king and struts about proudly; otherwise, what standing does he have in the city? The maqta mocks the poet himself, and perhaps those who value court connections over talent.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: خودی، زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار