کہاں مے خانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ — مرزا غالب

کہاں مے خانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظپر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

kahaan mai-khaane ka darwaaza Ghalib aur kahaan waaizpar itna jaante hain kal woh jaata tha ki hum nikle

  • مے خانے mai-khaaneشراب خانہ (tavern)
  • واعظ waaizوعظ کرنے والا، مولوی (the preacher)

آسان تشریح

غالب! کہاں مے خانے کا دروازہ اور کہاں واعظ! مگر اتنا جانتے ہیں کہ کل جب ہم نکل رہے تھے تو وہ اندر جا رہا تھا۔ مقطع میں اس واعظ پر طنز ہے جو دوسروں کو منع کرتا ہے اور خود وہی کرتا ہے۔

In plain English

Ghalib, the tavern door and the preacher are worlds apart. But this much I know: yesterday he was going in just as I was coming out. The maqta mocks the preacher who forbids others what he does himself.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 206
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 206۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “hazaaron khwaahishen aisi ki har khwaahish pe dam nikle”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 206. It means: Ghalib, the tavern door and the preacher are worlds apart. But this much I know: yesterday he was going in just as I was coming out. The maqta mocks the preacher who forbids others what he does himself.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار