فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا — علامہ محمد اقبال

فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہواہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا

fikr-e-insaan par tiri hasti se yeh raushan huahai par-e-murgh-e-takhayyul ki rasaai taa-kuja

  • فکر انساں fikr-e-insaanانسانی سوچ (human thought)
  • ہستی hastiوجود (existence, being)
  • مرغ تخیل murgh-e-takhayyulتخیل کا پرندہ (the bird of imagination)
  • رسائی rasaaiپہنچ (reach)
  • تا کجا taa-kujaکہاں تک (how far)

آسان تشریح

اے غالب، تیرے وجود سے انسانی فکر پر یہ بات روشن ہوئی کہ تخیل کے پرندے کے پر کہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یعنی غالب نے دکھایا کہ تخیل کی پرواز کتنی بلند ہو سکتی ہے۔

In plain English

Through your life and work, Ghalib, human thought learned how far the wings of imagination can reach. Ghalib showed people what imagination is capable of.

علامہ محمد اقبال · بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 9
کارڈ بنائیں

یہ شعر علامہ محمد اقبال کا ہے، ان کی نظم «مرزا غالب» سے، بانگ درا (اشاعت دوم) (1926)، ص 9۔This couplet is by Allama Muhammad Iqbal, from the nazm “mirza ghaalib”, Bang-e-Dra (second printing) (1926), p. 9. It means: Through your life and work, Ghalib, human thought learned how far the wings of imagination can reach. Ghalib showed people what imagination is capable of.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اسی نظم کے اور اشعار پوری نظم

ملتے جلتے اشعار