ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا — مرزا غالب

ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگااور درویش کی صدا کیا ہے

haan bhala kar, tera bhala hogaaur darvesh ki sada kya hai

  • درویش darveshفقیر، اللہ والا (a dervish, a holy beggar)
  • صدا sadaآواز، پکار (call, cry)

آسان تشریح

ہاں، بھلا کرو، تمہارا بھلا ہوگا؛ درویش کی پکار اور ہوتی ہی کیا ہے؟ یہ دروازے پر آنے والے فقیر کی صدا ہے جسے شاعر محبوب سے مہربانی مانگنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

In plain English

Yes, do good and good will come to you; what else is a dervish's call? This is the cry of a wandering beggar at the door, and the poet uses it to ask the beloved for kindness.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 149۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “dil-e-naadaan tujhe hua kya hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 149. It means: Yes, do good and good will come to you; what else is a dervish's call? This is the cry of a wandering beggar at the door, and the poet uses it to ask the beloved for kindness.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی، ایمان اور خدا · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار