موت کا ایک دن معین ہے — مرزا غالب

موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی

maut ka ek din mu'ayyan haineend kyun raat bhar nahin aati

  • معین mu'ayyanمقرر، طے شدہ (fixed, appointed)

آسان تشریح

موت کا ایک دن مقرر ہے، پھر رات بھر نیند کیوں نہیں آتی؟ اگر موت اپنے وقت پر ہی آئے گی تو ڈر سے جاگنے کی کیا ضرورت، مگر فکر انسان کو سونے نہیں دیتی۔

In plain English

The day of death is fixed. Then why does sleep not come all night? If death will come only on its day, there is no reason to lie awake in fear; yet worry keeps us sleepless.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 147
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «کوئی امید بر نہیں آتی» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 147۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “koi ummeed bar nahin aati”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 147. It means: The day of death is fixed. Then why does sleep not come all night? If death will come only on its day, there is no reason to lie awake in fear; yet worry keeps us sleepless.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی، وقت اور زمانہ · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار