خدا جانے کیا ہوگا انجام اس کا — خواجہ میر درد

خدا جانے کیا ہوگا انجام اس کامیں بے صبر اتنا ہوں وہ تند خو ہے

khuda jaane kya hoga anjaam is kamain be-sabr itna hoon vo tund-khoo hai

  • انجام anjaamآخر، نتیجہ (outcome)
  • بے صبر be-sabrجس میں صبر نہ ہو (impatient)
  • تند خو tund-khooسخت مزاج، غصیلا (hot-tempered)

آسان تشریح

خدا جانے اس کا انجام کیا ہوگا، میں اتنا بے صبر ہوں اور وہ اتنا سخت مزاج ہے۔ دو الگ طبیعتیں آمنے سامنے ہیں، اور عاشق اپنے حال پر خود بھی مسکرا رہا ہے۔

In plain English

God knows how this will end: I am so impatient and the beloved is so hot-tempered. Two opposite natures have met, and the lover half-smiles at his own situation.

خواجہ میر درد · دیوانِ میر درد (1922)، ص 49
کارڈ بنائیں

یہ شعر خواجہ میر درد کا ہے، ان کی غزل «میرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے» سے، دیوانِ میر درد (1922)، ص 49۔This couplet is by Khwaja Mir Dard, from the ghazal “mera ji hai jab tak tiri justuju hai”, Diwan-e-Mir Dard (1922), p. 49. It means: God knows how this will end: I am so impatient and the beloved is so hot-tempered. Two opposite natures have met, and the lover half-smiles at his own situation.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار