جان تم پر نثار کرتا ہوں — مرزا غالب

جان تم پر نثار کرتا ہوںمیں نہیں جانتا دعا کیا ہے

jaan tum par nisaar karta hoonmain nahin jaanta dua kya hai

  • نثار کرتا nisaar kartaقربان کرنا (to sacrifice)
  • دعا duaاللہ سے مانگنا؛ دعا دینا (prayer, blessing)

آسان تشریح

میں تم پر اپنی جان قربان کرتا ہوں، مجھے نہیں معلوم دعا کیا ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں سے دعا دیتے ہوں گے، عاشق اپنی پوری جان پیش کرتا ہے۔

In plain English

I give my life for you; I do not know what a mere blessing is. Others might bless the beloved with words, but the lover offers his whole life.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 150
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 150۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “dil-e-naadaan tujhe hua kya hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 150. It means: I give my life for you; I do not know what a mere blessing is. Others might bless the beloved with words, but the lover offers his whole life.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اسی غزل کے اور اشعار پوری غزل

ملتے جلتے اشعار