۲۹ غزلیں/نظمیں · ۵۴ مشہور اشعار
مرزا غالب کی بہترین غزلیں اور مشہور اشعار
مرزا غالب (۱۷۹۷–۱۸۶۹) کا وہ کلام جو سب سے زیادہ پڑھا اور سنایا جاتا ہے، اصل مطبوعہ نسخے سے، ہر شعر کے معنی اور تشریح کے ساتھ۔
Best Mirza Ghalib poetry in Urdu and Roman Urdu, with meanings.
مرزا غالب کے مشہور اشعار
وہ اشعار جو ضرب المثل بن چکے ہیں۔
- نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کامرزا غالبغزل
- عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی، دردِ بے دوا پایامرزا غالبغزل
- بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونامرزا غالبغزل
- کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونامرزا غالبغزل
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتامرزا غالبغزل
- یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصحکوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتامرزا غالبغزل
- غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہےغمِ عشق اگر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتامرزا غالبغزل
- درد منت کشِ دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوامرزا غالبغزل
- جان دی، دی ہوئی اسی کی تھیحق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوامرزا غالبغزل
- کوئی ویرانی سی ویرانی ہےدشت کو دیکھ کے گھر یاد آیامرزا غالبغزل
- ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبکہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھامرزا غالبغزل
- رات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیامرزا غالبغزل
- پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہےکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیامرزا غالبغزل
- عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانامرزا غالبغزل
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوںروئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوںمرزا غالبغزل
- قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوںمرزا غالبغزل
- ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہجس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھمرزا غالبغزل
- کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتیمرزا غالبغزل
- موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتیمرزا غالبغزل
- ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتیمرزا غالبغزل
- مرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے پر نہیں آتیمرزا غالبغزل
- دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہےمرزا غالبغزل
- ہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہےمرزا غالبغزل
- میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہےمرزا غالبغزل
- پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہےسینہ جویائے زخمِ کاری ہےمرزا غالبغزل
- پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیںپھر وہی زندگی ہماری ہےمرزا غالبغزل
- بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہےمرزا غالبغزل
- ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہےاک شمع ہے دلیلِ سحر، سو خموش ہےمرزا غالبغزل
- اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دلزنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہےمرزا غالبغزل
- داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئیاک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہےمرزا غالبغزل
- آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میںغالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہےمرزا غالبغزل
- ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونقنوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہیمرزا غالبغزل
- نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواگر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہیمرزا غالبغزل
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےتمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہےمرزا غالبغزل
- جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگاکریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہےمرزا غالبغزل
- رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہےمرزا غالبغزل
- گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیےجو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوےمرزا غالبغزل
- ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہےمرزا غالبغزل
- ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہےمرزا غالبغزل
- عشق نے غالب نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کےمرزا غالبغزل
- چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیےیہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیےمرزا غالبغزل
- چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسدؔآپ کی صورت تو دیکھا چاہیےمرزا غالبغزل
- عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔکہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنےمرزا غالبغزل
- بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگےمرزا غالبغزل
- مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھےتو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگےمرزا غالبغزل
- ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفرکعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگےمرزا غالبغزل
- گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہےرہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگےمرزا غالبغزل
- ابنِ مریم ہوا کرے کوئیمیرے دکھ کی دوا کرے کوئیمرزا غالبغزل
- نہ سنو گر برا کہے کوئینہ کہو گر برا کرے کوئیمرزا غالبغزل
- روک لو گر غلط چلے کوئیبخش دو گر خطا کرے کوئیمرزا غالبغزل
- جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔکیوں کسی کا گلا کرے کوئیمرزا غالبغزل
- بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟غلامِ ساقیِ کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہےمرزا غالبغزل
- ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلےمرزا غالبغزل
- نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلےمرزا غالبغزل
بہترین غزلیں اور نظمیں
مشہور اشعار کی تعداد کے حساب سے ترتیب۔
- ۱. کوئی امید بر نہیں آتیkoi ummeed bar nahin aatiغزل · ۱۰ اشعار
- ۲. ابنِ مریم ہوا کرے کوئیibn-e-maryam huaa kare koiغزل · ۱۰ اشعار
- ۳. ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہےzulmat-kade mein mere shab-e-gham kaa josh haiغزل · ۹ اشعار
- ۴. بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےbaazeecha-e-atfaal hai duniyaa mere aageغزل · ۹ اشعار
- ۵. یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتاye na thi hamaari qismat ki visaal-e-yaar hotaغزل · ۱۱ اشعار
- ۶. دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہےdil-e-naadaan tujhe hua kya haiغزل · ۱۱ اشعار
- ۷. پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہےphir kuchh ik dil ko beqaraari haiغزل · ۹ اشعار
- ۸. ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےhar ek baat pe kehte ho tum ki tu kya haiغزل · ۷ اشعار
- ۹. ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےhazaaron khwaahishen aisi ki har khwaahish pe dam nikleغزل · ۱۱ اشعار
- ۱۰. درد منت کشِ دوا نہ ہواdard minnat-kash-e-dawa na huaغزل · ۱۰ اشعار
- ۱۱. چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیےchaahiye achchhon ko jitnaa chaahiyeغزل · ۱۰ اشعار
- ۱۲. دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوںdil hi to hai na sang-o-khisht dard se bhar na aae kyunغزل · ۸ اشعار
- ۱۳. حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہےhusn-e-mah garche ba-hangaam-e-kamaal achchha haiغزل · ۸ اشعار
- ۱۴. جور سے باز آئے پر باز آئیں کیاjaur se baaz aae par baaz aaen kyaغزل · ۷ اشعار
- ۱۵. نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہیna hui gar mere marne se tasalli na sahiغزل · ۷ اشعار
- ۱۶. بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناbas-ki dushwaar hai har kaam ka aasaan honaغزل · ۶ اشعار
- ۱۷. پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیاphir mujhe deeda-e-tar yaad aayaغزل · ۱۰ اشعار
- ۱۸. نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنےnukta-cheen hai gham-e-dil us ko sunaae na baneغزل · ۹ اشعار
- ۱۹. عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جاناishrat-e-qatra hai darya mein fana ho jaanaغزل · ۸ اشعار
- ۲۰. کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایاkehte ho na denge hum dil agar pada paayaغزل · ۷ اشعار
- ۲۱. ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاhui taakheer to kuchh baais-e-taakheer bhi thaغزل · ۷ اشعار
- ۲۲. جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےjis bazm mein tu naaz se guftaar mein aaveغزل · ۶ اشعار
- ۲۳. نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کاnaqsh faryaadi hai kis ki shokhi-e-tahreer kaغزل · ۵ اشعار
- ۲۴. غیر لیں محفل میں بوسے جام کےghair len mehfil mein bose jaam keغزل · ۵ اشعار
- ۲۵. بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟bahut sahi gham-e-geeti, sharaab kam kyaa hai?غزل · ۳ اشعار
- ۲۶. ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہhai sabza-zaar har dar-o-deewaar-e-gham-kadaغزل · ۲ اشعار
- ۲۷. دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیاdil mera soz-e-nihaan se be-muhaaba jal gayaغزل · ۶ اشعار
- ۲۸. شوق ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلاshauq har rang raqeeb-e-sar-o-saamaan niklaغزل · ۶ اشعار
- ۲۹. گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جائے گاgar na andoh-e-shab-e-furqat bayaan ho jaayegaغزل · ۶ اشعار