چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسدؔ — مرزا غالب

چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسدؔآپ کی صورت تو دیکھا چاہیے

chaahte hain khoob-rooyon ko asadaap ki soorat to dekhaa chaahiye

  • خوب رویوں khoob-rooyonحسینوں (beautiful people)
  • اسد asadغالب کا پہلا تخلص (Asad, Ghalib's earlier pen name)
  • صورت sooratچہرہ (face)

آسان تشریح

اسد، آپ حسینوں کو چاہتے ہیں؟ ذرا اپنی صورت تو دیکھیے! غالب اپنے پرانے تخلص سے خود پر ہی مذاق کرتے ہوئے غزل ختم کرتے ہیں۔

In plain English

So, Asad, you love the beautiful ones; first take a look at your own face! Ghalib ends with a joke at his own expense, using his earlier pen name.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 178
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 178۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “chaahiye achchhon ko jitnaa chaahiye”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 178. It means: So, Asad, you love the beautiful ones; first take a look at your own face! Ghalib ends with a joke at his own expense, using his earlier pen name.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 178 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

اسد، آپ حسینوں کو چاہتے ہیں؟ ذرا اپنی صورت تو دیکھیے! غالب اپنے پرانے تخلص سے خود پر ہی مذاق کرتے ہوئے غزل ختم کرتے ہیں۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار