چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل؟ — مرزا غالب

چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل؟بارے اب اس سے بھی سمجھا چاہیے

chaahne ko tere kyaa samjhaa thaa dil?baare ab us se bhi samjhaa chaahiye

  • بارے baareآخرکار (at last)
  • سمجھا چاہیے samjhaa chaahiyeنمٹنا چاہیے، حساب لینا چاہیے (must deal with, settle accounts with)

آسان تشریح

دل نے تجھے چاہنے کو کیا سمجھ رکھا تھا؟ آخرکار اب دل سے بھی نمٹنا ہوگا۔ عاشق اپنے دل کو اس محبت میں پھنسانے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

In plain English

What did my heart think loving you would be like? Now at last I must have it out with my heart too. The lover blames his own heart for leading him into this love.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “chaahiye achchhon ko jitnaa chaahiye”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 177. It means: What did my heart think loving you would be like? Now at last I must have it out with my heart too. The lover blames his own heart for leading him into this love.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق، دل · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

دل نے تجھے چاہنے کو کیا سمجھ رکھا تھا؟ آخرکار اب دل سے بھی نمٹنا ہوگا۔ عاشق اپنے دل کو اس محبت میں پھنسانے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار