دشمنی نے میری کھویا غیر کو — مرزا غالب

دشمنی نے میری کھویا غیر کوکس قدر دشمن ہے دیکھا چاہیے

dushmani ne meri khoyaa ghair kokis qadar dushman hai dekhaa chaahiye

  • غیر ghairرقیب (the rival)
  • کھویا khoyaaبرباد کیا (ruined)

آسان تشریح

میری دشمنی نے رقیب کو خود ہی برباد کر دیا؛ دیکھیے وہ کتنا بڑا دشمن ہے۔ رقیب کو عاشق سے اتنی دشمنی تھی کہ اس نے محبوب کی نظر میں خود اپنا مقام کھو دیا۔

In plain English

Hostility to me has ruined the rival himself; just look how much of an enemy he is. The rival hated the lover so much that he destroyed his own standing with the beloved.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “chaahiye achchhon ko jitnaa chaahiye”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 177. It means: Hostility to me has ruined the rival himself; just look how much of an enemy he is. The rival hated the lover so much that he destroyed his own standing with the beloved.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

میری دشمنی نے رقیب کو خود ہی برباد کر دیا؛ دیکھیے وہ کتنا بڑا دشمن ہے۔ رقیب کو عاشق سے اتنی دشمنی تھی کہ اس نے محبوب کی نظر میں خود اپنا مقام کھو دیا۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار