دوستی کا پردہ ہے بیگانگی — مرزا غالب

دوستی کا پردہ ہے بیگانگیمنہ چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے

dosti kaa parda hai begaanagimunh chhupaanaa ham se chhoraa chaahiye

  • بیگانگی begaanagiاجنبیت (acting like a stranger)
  • منہ چھپانا munh chhupaanaaسامنے نہ آنا (to hide one's face)

آسان تشریح

اجنبیت دراصل دوستی کا پردہ ہے؛ اس لیے ہم سے منہ چھپانا چھوڑ دینا چاہیے۔ عاشق محبوب کی بے رخی کو محبت کا پردہ سمجھتا ہے۔

In plain English

Acting like a stranger is only a veil over friendship; so stop hiding your face from me. The lover reads the beloved's coldness as a cover for affection.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “chaahiye achchhon ko jitnaa chaahiye”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 177. It means: Acting like a stranger is only a veil over friendship; so stop hiding your face from me. The lover reads the beloved's coldness as a cover for affection.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دوستی، عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

اجنبیت دراصل دوستی کا پردہ ہے؛ اس لیے ہم سے منہ چھپانا چھوڑ دینا چاہیے۔ عاشق محبوب کی بے رخی کو محبت کا پردہ سمجھتا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار