اردو شاعری کے ادوار
دہلی میں میر اور درد سے لے کر لاہور میں اقبال تک، دو سو سال کی کلاسیکی اردو شاعری چار ادوار میں۔ ہر دور کے شعرا اور ان کے مشہور اشعار۔
Two centuries of classical Urdu poetry in four eras.
دہلی کا ابتدائی دور 1700–1800
فارسی کی جگہ اردو غزل دہلی میں اپنے پاؤں جماتی ہے۔ میر اور درد نے سادہ زبان میں درد، تصوف اور عشق کو وہ گہرائی دی جو آج تک معیار ہے۔
Early Delhi: Urdu takes over from Persian as the language of the ghazal in Delhi. Mir and Dard give simple speech a depth of feeling, Sufi thought and love that is still the benchmark.
آخری مغل دربار 1800–1857
بہادر شاہ ظفر کا دربار، ذوق کی استادی، مومن کی نزاکت اور غالب کی فکر۔ یہ اردو غزل کا سنہری دور ہے جو ۱۸۵۷ کی جنگ پر ختم ہوتا ہے۔
The last Mughal court: Bahadur Shah Zafar's court, Zauq's mastery of idiom, Momin's delicacy and Ghalib's thought: the golden age of the Urdu ghazal, ended by the war of 1857.
۱۸۵۷ کے بعد: داغ کا دبستان 1857–1905
دہلی اجڑنے کے بعد شاعر رام پور اور حیدرآباد جیسے درباروں میں جا بسے۔ داغ کی شوخ، صاف اور محاوراتی زبان نے غزل کو عوام تک پہنچایا۔
After 1857: the school of Dagh: With Delhi ruined, poets moved to courts such as Rampur and Hyderabad. Dagh's playful, clear and idiomatic Urdu carried the ghazal to a wide public.
اصلاح اور جدید دور 1870–1938
حالی نے شاعری کو قوم کی اصلاح کا ذریعہ بنایا، اکبر نے طنز و مزاح سے مغربی تہذیب پر سوال اٹھائے، اور اقبال نے خودی اور بیداری کا پیغام دیا۔
Reform and the modern age: Hali turned poetry towards social reform, Akbar questioned Western ways with satire, and Iqbal wrote of selfhood (khudi) and awakening.
یہ خاکہ ادبی تاریخ کا ہمارا اپنا مختصر خلاصہ ہے، تاکہ قاری ہر شاعر کو اس کے زمانے میں دیکھ سکے۔ ہر شاعر کے صفحے پر تاریخِ وفات کے دو حوالے دیے گئے ہیں۔