مومن خان مومن Momin Khan Momin
۱۸۰۰ – ۱۸۵۲ · ۲ غزلیں/نظمیں · ۱۷ اشعار
مومن خان مومن تقریباً ۱۸۰۰ء میں دہلی میں پیدا ہوئے اور ۱۸۵۲ء میں وہیں اپنے گھر کی چھت سے گر کر فوت ہوئے۔ وہ غالب اور ذوق کے ہم عصر تھے اور اپنے خاندان کی طرح حکمت (طب) جانتے تھے، نیز نجوم، شطرنج اور موسیقی میں بھی شہرت رکھتے تھے۔ ان کی غزل اپنے باریک، بالواسطہ مضامین اور عشق کے نازک بیان کی وجہ سے پسند کی جاتی ہے۔ روایت ہے کہ غالب نے ان کے شعر “تم مرے پاس ہوتے ہو گویا” کے بدلے اپنا پورا دیوان دینے کی بات کی تھی۔
Momin Khan Momin was born in Delhi around 1800 and died there in 1852 after a fall from the roof of his house. A contemporary of Ghalib and Zauq, he was trained in medicine (hikmat) like his family and was also known for astronomy, chess and music. His ghazals are admired for their subtle, indirect turns of thought and their delicate treatment of love. Ghalib is said to have offered his whole diwan in exchange for Momin's couplet “tum mere paas hote ho goyaa”.
مشہور اشعار
- تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئےورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتامومن خان مومن
- تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتامومن خان مومن
- حال دل یار کو لکھوں کیونکرہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتامومن خان مومن
- وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہومومن خان مومن
- وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیںوہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہومومن خان مومن
- کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھیکبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہومومن خان مومن
کلام
ماخذ
- کلیاتِ مومن (Lucknow، 1863) · اسکین دیکھیں
تاریخِ وفات کے حوالے: English Wikipedia، Library of Congress Name Authority File