الطاف حسین حالی Altaf Hussain Hali

۱۸۳۷ – ۱۹۱۴ · ۵ غزلیں/نظمیں · ۱۹ اشعار

خواجہ الطاف حسین حالی (۱۸۳۷ء تا ۱۹۱۴ء) پانی پت میں پیدا ہوئے۔ وہ مرزا غالب کے شاگرد اور بعد میں ان کے سوانح نگار تھے، اور سر سید احمد خان کے قریبی رفیق رہے۔ ان کی طویل نظم مسدسِ مد و جزرِ اسلام (۱۸۷۹ء) نے برصغیر کے مسلمانوں کو تعلیم اور اصلاح کی طرف بلایا، اور ان کے دیوان کا مقدمہ، مقدمۂ شعر و شاعری (۱۸۹۳ء)، اردو تنقید کی پہلی بڑی کتاب مانا جاتا ہے۔ انھوں نے یادگارِ غالب اور حیاتِ جاوید جیسی سوانح عمریاں بھی لکھیں۔ انھیں شمس العلما کا خطاب ملا اور ۱۹۱۴ء میں پانی پت میں ان کا انتقال ہوا۔

Khwaja Altaf Hussain Hali (1837–1914) was born in Panipat. He was a pupil and later the biographer of Mirza Ghalib, and a close colleague of Sir Syed Ahmad Khan. His long poem Musaddas-e-Madd-o-Jazr-e-Islam (1879) urged Muslims of India towards education and reform, and the introduction to his diwan, Muqaddama-e-Sher-o-Shairi (1893), is counted as the first major work of Urdu literary criticism. He also wrote the biographies Yadgar-e-Ghalib and Hayat-e-Javed. He received the title Shams-ul-Ulama and died in Panipat in 1914.

مشہور اشعار

کلام

الطاف حسین حالی کے نام سے پھیلنے والے اشعار

ماخذ

تاریخِ وفات کے حوالے: English Wikipedia، Library of Congress Name Authority File