الطاف حسین حالی کی قطعہ

مغرور کی پہچان

Maghroor Ki Pehchaan — How to recognise a proud person · Qita by Altaf Hussain Hali

حالی کے دیوان کے حصۂ قطعات سے دو اشعار کا قطعہ، صفحہ ۳۷۔

A two-couplet qita (short poem) from the qitas section of Hali’s diwan, page 37.

یہ قطعہ الطاف حسین حالی کی ہے اور یہاں دیوانِ حالی (1922) کے صفحہ ۳۷ سے لی گئی ہے۔ ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ اور آسان تشریح ہماری اپنی تحریر ہے۔This qita is by Altaf Hussain Hali, from Diwan-e-Hali (qitas, ghazals, qasidas, marsiyas, rubais) (1922), p. 37.

غرور زید کی کرتا ہے گر شکایت عمروتو سمجھو کرتا ہے اپنے غرور کا اظہار

ghuroor zaid ki kartaa hai gar shikaayat amrto samjho kartaa hai apne ghuroor kaa izhaar

  • غرور ghuroorتکبر، گھمنڈ (pride, arrogance)
  • زید zaidفرضی نام (جیسے “فلاں”) (a placeholder name, like “X”)
  • عمرو amrدوسرا فرضی نام (a second placeholder name, like “Y”)
  • اظہار izhaarظاہر کرنا (display, revealing)

آسان تشریح

زید اور عمرو عربی اور اردو کی مثالوں کے روایتی فرضی نام ہیں، جیسے “فلاں اور فلاں”۔ حالی کہتے ہیں کہ اگر عمرو، زید کے غرور کی شکایت کرے تو سمجھ لو کہ وہ دراصل اپنے غرور کا اظہار کر رہا ہے۔ دوسرے کی بڑائی سے چڑنا اکثر اس بات کی نشانی ہے کہ ہماری اپنی انا کو ٹھیس لگی ہے۔

In plain English

Zaid and Amr are the traditional “X and Y” of Arabic and Urdu examples. If Amr complains that Zaid is proud, Hali says, understand that Amr is really revealing his own pride. Being bothered by someone else’s self-importance usually means our own ego has been touched.

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 37 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

جنھوں نے آپ کو سب سے سمجھ لیا ہے بڑابڑائی دیکھ نہیں سکتے غیر کی زنہار

jinhon ne aap ko sab se samajh liyaa hai baraabaraai dekh nahin sakte ghair ki zinhaar

  • آپ کو aap koاپنے آپ کو (themselves)
  • بڑائی baraaiعظمت، بڑا ہونا (greatness)
  • زنہار zinhaarہرگز، کبھی بھی (never, by no means)

آسان تشریح

جنھوں نے خود کو سب سے بڑا سمجھ لیا ہے وہ کسی دوسرے کی بڑائی ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ دوسرا شعر پہلے کی وضاحت کرتا ہے کہ دوسروں کے غرور کی شکایت دراصل خود کو بہت بڑا سمجھنے کی علامت ہے۔

In plain English

People who have decided that they are greater than everyone can never bear to see greatness in anyone else. The second couplet explains the first: complaining about others’ pride is a symptom of thinking too highly of oneself.

الطاف حسین حالی · دیوانِ حالی (1922)، ص 37 · اس شعر کا صفحہ
کارڈ بنائیں

ماخذ اور جانچ

نسخہ
دیوانِ حالی · Diwan-e-Hali (qitas, ghazals, qasidas, marsiyas, rubais) · Al-Nazir Book Agency; printed at Anwar-ul-Matabe (title page: “انوار المطابع لکھنؤ میں طبع ہوا”), at the request of Maulvi Zafar-ul-Mulk Alavi، Lucknow 1922
صفحات
37 · اسکین ۱
جانچ
متن اسکین شدہ صفحے سے ملا کر لکھا گیا ہے (املا جدید کیا گیا ہے)۔ ماہر پروف ریڈر کی دوسری جانچ ابھی باقی ہے۔ (پہلی جانچ AI کی مدد سے، 2026-10-26)

کوئی غلطی نظر آئی؟ ہمیں بتائیں

الطاف حسین حالی کا مزید کلام