بہادر شاہ ظفر Bahadur Shah Zafar
۱۷۷۵ – ۱۸۶۲ · ۳ غزلیں/نظمیں · ۱۳ اشعار
ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ثانی، آخری مغل بادشاہ، ۱۷۷۵ء میں دہلی میں پیدا ہوئے اور ظفر تخلص سے اردو شاعری کی۔ ۱۸۳۷ء میں تخت نشین ہوئے مگر ان کا اختیار دہلی کی فصیل تک محدود تھا؛ شاعری میں وہ ذوق اور بعد میں غالب کے شاگرد رہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ کے بعد انگریزوں نے ان پر مقدمہ چلا کر انہیں رنگون جلاوطن کر دیا جہاں ۱۸۶۲ء میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی غزلیں چار دیوانوں میں جمع ہیں جو کلیات ظفر کے نام سے ایک ساتھ چھپیں۔
Abu Zafar Sirajuddin Muhammad Bahadur Shah II, the last Mughal emperor, was born in Delhi in 1775 and wrote Urdu poetry under the pen name Zafar. He became emperor in 1837 with power limited to Delhi's walled city, and was a pupil in poetry of Zauq and later of Ghalib. After the uprising of 1857 the British tried him and exiled him to Rangoon (Yangon), where he died in 1862. His ghazals were collected in four diwans, printed together as Kulliyat-e-Zafar.
مشہور اشعار
- ایک دم پر ہوا نہ باندھ حبابدم کو دم بھر میں یاں ہوا دیکھابہادر شاہ ظفر
- اب نہ دیجے ظفر کسی کو دلکہ جسے دیکھا بے وفا دیکھابہادر شاہ ظفر
- نہ پوچھ مجھ سے ظفر میری تو حقیقت حالاگر کہوں گا ابھی تجھ کو میں رلا دوں گابہادر شاہ ظفر
- بلبلو دیکھو چمن میں اتنانہ کرو شور کہ صیاد آیابہادر شاہ ظفر
- بول اٹھا دیکھ کے مجنوں مجھ کویہ تو کوئی مرا استاد آیابہادر شاہ ظفر
- دیکھ کر اس بت کافر کے ستماے ظفر مجھ کو خدا یاد آیابہادر شاہ ظفر
کلام
بہادر شاہ ظفر کے نام سے پھیلنے والے اشعار
ماخذ
- کلیاتِ ظفر (Lucknow، 1918) · اسکین دیکھیں
تاریخِ وفات کے حوالے: English Wikipedia، Library of Congress Name Authority File