صحبتِ رنداں سے واجب ہے حذرجائے مے اپنے کو کھینچا چاہیے
sohbat-e-rindaan se vaajib hai hazarjaa-e-mai apne ko khainchaa chaahiye
صحبتِ رنداںsohbat-e-rindaanشرابیوں کی محفل (the company of drinkers)
حذرhazarپرہیز (keeping away)
جائے مےjaa-e-maiشراب کی جگہ (in place of wine)
آسان تشریح
رندوں کی صحبت سے بچنا ضروری ہے؛ شراب کھینچنے کے بجائے خود کو وہاں سے کھینچ لینا چاہیے۔ غالب، جو خود شراب کے شوقین تھے، یہ نصیحت مسکراتے ہوئے کرتے ہیں اور ’’کھینچنا‘‘ کے دو معنوں سے کھیلتے ہیں۔
In plain English
One must keep away from the company of drinkers; instead of drawing wine, one should draw oneself away. Ghalib, himself fond of wine, gives this advice with a wink, playing on khainchna (to pour, to pull away).
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 176۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “chaahiye achchhon ko jitnaa chaahiye”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 176. It means: One must keep away from the company of drinkers; instead of drawing wine, one should draw oneself away. Ghalib, himself fond of wine, gives this advice with a wink, playing on khainchna (to pour, to pull away).
کارڈ بنائیں
واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 176 سے لیا ہے۔
اس شعر کا مطلب کیا ہے؟
رندوں کی صحبت سے بچنا ضروری ہے؛ شراب کھینچنے کے بجائے خود کو وہاں سے کھینچ لینا چاہیے۔ غالب، جو خود شراب کے شوقین تھے، یہ نصیحت مسکراتے ہوئے کرتے ہیں اور ’’کھینچنا‘‘ کے دو معنوں سے کھیلتے ہیں۔