اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعی — مرزا غالب

اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعییار ہی ہنگامہ آرا چاہیے

apni rusvaai mein kyaa chalti hai sa'iyaar hi hangaama-aaraa chaahiye

  • رسوائی rusvaaiبدنامی (disgrace)
  • سعی sa'iکوشش (effort)
  • ہنگامہ آرا hangaama-aaraaشور برپا کرنے والا (one who stirs up a scene)

آسان تشریح

اپنی رسوائی میں اپنی کوشش کیا کام آتی ہے؟ ہنگامہ تو یار ہی کو برپا کرنا چاہیے۔ عاشق کی شہرت یا بدنامی تبھی معنی رکھتی ہے جب محبوب بھی اس کہانی کا حصہ ہو۔

In plain English

What use is my own effort to get myself talked about? The beloved must be the one who makes the scene. A lover's fame (or disgrace) only matters if the beloved is part of the story.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “chaahiye achchhon ko jitnaa chaahiye”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 177. It means: What use is my own effort to get myself talked about? The beloved must be the one who makes the scene. A lover's fame (or disgrace) only matters if the beloved is part of the story.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 177 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

اپنی رسوائی میں اپنی کوشش کیا کام آتی ہے؟ ہنگامہ تو یار ہی کو برپا کرنا چاہیے۔ عاشق کی شہرت یا بدنامی تبھی معنی رکھتی ہے جب محبوب بھی اس کہانی کا حصہ ہو۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار