چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے — مرزا غالب

چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیےیہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے

chaahiye achchhon ko jitnaa chaahiyeye agar chaahen to phir kyaa chaahiye

  • اچھوں achchhonحسینوں، اچھے لوگوں (the lovely ones)
  • چاہیں chaahenمحبت کریں (love (in return))

آسان تشریح

حسینوں کو جتنا چاہا جا سکے چاہنا چاہیے؛ اور اگر وہ بھی چاہنے لگیں تو پھر اور کیا چاہیے؟ شعر کی خوبی ’’چاہنا‘‘ اور ’’چاہیے‘‘ کے لفظی کھیل میں ہے۔

In plain English

One should love the lovely ones as much as one possibly can; and if they love you back, what more could you want? The couplet turns on chaahna (to love) and chaahiye (one needs).

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 176
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 176۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “chaahiye achchhon ko jitnaa chaahiye”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 176. It means: One should love the lovely ones as much as one possibly can; and if they love you back, what more could you want? The couplet turns on chaahna (to love) and chaahiye (one needs).

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 176 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

حسینوں کو جتنا چاہا جا سکے چاہنا چاہیے؛ اور اگر وہ بھی چاہنے لگیں تو پھر اور کیا چاہیے؟ شعر کی خوبی ’’چاہنا‘‘ اور ’’چاہیے‘‘ کے لفظی کھیل میں ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار