مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے — مرزا غالب

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھےتو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے

mat poochh ke kyaa haal hai meraa tere peechhetu dekh ke kyaa rang hai teraa mere aage

  • ترے پیچھے tere peechheتیری غیر موجودگی میں (behind you, in your absence)
  • رنگ rangچہرے کی رنگت، حالت (colour, look)

آسان تشریح

یہ مت پوچھ کہ تیرے پیچھے میرا کیا حال ہے؛ یہ دیکھ کہ میرے سامنے تیرا رنگ کیسا ہے۔ محبوب کے چہرے کی بدلتی رنگت بتا دیتی ہے کہ اسے بھی پروا ہے۔

In plain English

Do not ask how I fare when you are gone; just look at the colour in your own face when you are in front of me. The beloved's blush in his presence shows she cares more than she admits.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “baazeecha-e-atfaal hai duniyaa mere aage”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 194. It means: Do not ask how I fare when you are gone; just look at the colour in your own face when you are in front of me. The beloved's blush in his presence shows she cares more than she admits.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

یہ مت پوچھ کہ تیرے پیچھے میرا کیا حال ہے؛ یہ دیکھ کہ میرے سامنے تیرا رنگ کیسا ہے۔ محبوب کے چہرے کی بدلتی رنگت بتا دیتی ہے کہ اسے بھی پروا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار