سچ کہتے ہو خودبین و خودآرا ہوں، نہ کیوں ہوں؟ — مرزا غالب

سچ کہتے ہو خودبین و خودآرا ہوں، نہ کیوں ہوں؟بیٹھا ہے بتِ آئینہ سیما مرے آگے

sach kehte ho khud-been-o-khud-aaraa hoon, na kyon hoon?baithaa hai but-e-aaeena-seemaa mere aage

  • خودبین khud-beenخود کو دیکھنے والا، مغرور (self-regarding, vain)
  • خودآرا khud-aaraaخود کو سنوارنے والا (self-adorning)
  • آئینہ سیما aaeena-seemaaآئینے جیسی پیشانی والا (mirror-browed)

آسان تشریح

سچ کہتے ہو کہ میں خودبین اور خودآرا ہوں؛ کیوں نہ ہوں جب آئینے جیسی پیشانی والا محبوب میرے سامنے بیٹھا ہے؟ محبوب کو دیکھنا آئینہ دیکھنے جیسا ہے، اس لیے عاشق خود پر بھی نازاں ہے۔

In plain English

You are right, I am vain and fond of my looks; why should I not be, when an idol with a mirror-bright brow sits before me? Looking at the beloved is like looking into a mirror, so of course he keeps admiring himself.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “baazeecha-e-atfaal hai duniyaa mere aage”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 194. It means: You are right, I am vain and fond of my looks; why should I not be, when an idol with a mirror-bright brow sits before me? Looking at the beloved is like looking into a mirror, so of course he keeps admiring himself.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق، خودی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

سچ کہتے ہو کہ میں خودبین اور خودآرا ہوں؛ کیوں نہ ہوں جب آئینے جیسی پیشانی والا محبوب میرے سامنے بیٹھا ہے؟ محبوب کو دیکھنا آئینہ دیکھنے جیسا ہے، اس لیے عاشق خود پر بھی نازاں ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار