بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے — مرزا غالب

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

baazeecha-e-atfaal hai duniyaa mere aagehotaa hai shab-o-roz tamaashaa mere aage

  • بازیچۂ اطفال baazeecha-e-atfaalبچوں کا کھیل (a children's game, a playground)
  • شب و روز shab-o-rozرات دن (night and day)
  • تماشا tamaashaaکھیل، نظارہ (a show, a spectacle)

آسان تشریح

دنیا میرے سامنے بچوں کا کھیل ہے؛ رات دن میرے آگے ایک تماشا ہوتا رہتا ہے۔ غالب دنیا کی ہماہمی کو یوں دیکھتے ہیں جیسے کوئی بڑا بچوں کو کھیلتے دیکھے۔

In plain English

The world is a children's playground before me; night and day a show goes on in front of my eyes. Ghalib watches the busy world with amusement, as an adult watches children playing.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “baazeecha-e-atfaal hai duniyaa mere aage”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 194. It means: The world is a children's playground before me; night and day a show goes on in front of my eyes. Ghalib watches the busy world with amusement, as an adult watches children playing.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: زندگی، خودی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

دنیا میرے سامنے بچوں کا کھیل ہے؛ رات دن میرے آگے ایک تماشا ہوتا رہتا ہے۔ غالب دنیا کی ہماہمی کو یوں دیکھتے ہیں جیسے کوئی بڑا بچوں کو کھیلتے دیکھے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار