ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر — مرزا غالب

ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفرکعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

imaan mujhe roke hai to khainche hai mujhe kufrkaaba mere peechhe hai kaleesaa mere aage

  • کفر kufrبے دینی (unbelief)
  • کعبہ kaabaمکہ میں اللہ کا گھر (the Kaaba)
  • کلیسا kaleesaaگرجا گھر (church)

آسان تشریح

ایمان مجھے روکتا ہے اور کفر اپنی طرف کھینچتا ہے؛ کعبہ میرے پیچھے ہے اور کلیسا میرے آگے۔ یہ اس دل کی تصویر ہے جو فرض اور خواہش، عقیدے اور کشش کے درمیان بٹا ہوا ہے۔

In plain English

Faith holds me back while unbelief pulls me on; the Kaaba is behind me and the church in front. A picture of a soul torn between duty and temptation, between what it believes and what it desires.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “baazeecha-e-atfaal hai duniyaa mere aage”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 195. It means: Faith holds me back while unbelief pulls me on; the Kaaba is behind me and the church in front. A picture of a soul torn between duty and temptation, between what it believes and what it desires.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: ایمان اور خدا · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

ایمان مجھے روکتا ہے اور کفر اپنی طرف کھینچتا ہے؛ کعبہ میرے پیچھے ہے اور کلیسا میرے آگے۔ یہ اس دل کی تصویر ہے جو فرض اور خواہش، عقیدے اور کشش کے درمیان بٹا ہوا ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار