جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور — مرزا غالب

جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظورجز وہم نہیں ہستیِ اشیا مرے آگے

juz naam nahin soorat-e-aalam mujhe manzoorjuz vahm nahin hasti-e-ashyaa mere aage

  • جز juzسوائے (except, nothing but)
  • صورتِ عالم soorat-e-aalamدنیا کی شکل (the form of the world)
  • وہم vahmگمان، خیال (illusion)
  • ہستیِ اشیا hasti-e-ashyaaچیزوں کا وجود (the existence of things)

آسان تشریح

دنیا کی صورت میرے نزدیک صرف ایک نام ہے اور چیزوں کا وجود محض وہم۔ یہ صوفیانہ خیال ہے کہ حقیقی وجود صرف خدا کا ہے اور نظر آنے والی دنیا عارضی جھلک ہے۔

In plain English

I accept the shape of the world as nothing but a name, and the existence of things as nothing but an illusion. A Sufi idea: only God truly exists, and the visible world is a passing appearance.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “baazeecha-e-atfaal hai duniyaa mere aage”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 194. It means: I accept the shape of the world as nothing but a name, and the existence of things as nothing but an illusion. A Sufi idea: only God truly exists, and the visible world is a passing appearance.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: ایمان اور خدا، زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 194 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

دنیا کی صورت میرے نزدیک صرف ایک نام ہے اور چیزوں کا وجود محض وہم۔ یہ صوفیانہ خیال ہے کہ حقیقی وجود صرف خدا کا ہے اور نظر آنے والی دنیا عارضی جھلک ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار