عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام — مرزا غالب

عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کاممجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے

aashiq hoon pe maashooq-farebi hai meraa kaammajnoon ko buraa kehti hai lailaa mere aage

  • معشوق فریبی maashooq-farebiمحبوب کو اپنا بنا لینا (charming the beloved)
  • مجنوں majnoonلیلیٰ کا عاشق (Majnun, Laila's lover)

آسان تشریح

میں عاشق ہوں مگر محبوب کو رجھا لینا میرا ہنر ہے؛ میرے سامنے لیلیٰ بھی مجنوں کو برا کہتی ہے۔ غالب فخر سے کہتے ہیں کہ وہ مشہور ترین محبوبہ کو بھی مشہور ترین عاشق سے پھیر سکتے ہیں۔

In plain English

I am a lover, yet my gift is winning over the beloved; in front of me even Laila speaks ill of Majnun. Ghalib boasts that he could charm the most famous beloved away from the most famous lover.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “baazeecha-e-atfaal hai duniyaa mere aage”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 195. It means: I am a lover, yet my gift is winning over the beloved; in front of me even Laila speaks ill of Majnun. Ghalib boasts that he could charm the most famous beloved away from the most famous lover.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 195 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

میں عاشق ہوں مگر محبوب کو رجھا لینا میرا ہنر ہے؛ میرے سامنے لیلیٰ بھی مجنوں کو برا کہتی ہے۔ غالب فخر سے کہتے ہیں کہ وہ مشہور ترین محبوبہ کو بھی مشہور ترین عاشق سے پھیر سکتے ہیں۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار