ابنِ مریم ہوا کرے کوئی — مرزا غالب

ابنِ مریم ہوا کرے کوئیمیرے دکھ کی دوا کرے کوئی

ibn-e-maryam huaa kare koimere dukh ki davaa kare koi

  • ابنِ مریم ibn-e-maryamمریم کا بیٹا، حضرت عیسیٰؑ (son of Mary, Jesus)
  • دوا davaaعلاج (cure, remedy)

آسان تشریح

کوئی چاہے ابنِ مریم یعنی مسیحا ہونے کا دعویٰ کرے، مجھے تو اس سے غرض ہے کہ کوئی میرے دکھ کا علاج کرے۔ غالب بڑے دعووں اور معجزوں سے متاثر نہیں، انہیں حقیقی دوا چاہیے۔

In plain English

Let someone claim to be the son of Mary (Jesus, famed for healing the sick); what matters to me is whether anyone can actually cure my pain. Ghalib is unimpressed by titles and miracles: he only wants a real remedy.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 201
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ابنِ مریم ہوا کرے کوئی» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 201۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ibn-e-maryam huaa kare koi”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 201. It means: Let someone claim to be the son of Mary (Jesus, famed for healing the sick); what matters to me is whether anyone can actually cure my pain. Ghalib is unimpressed by titles and miracles: he only wants a real remedy.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: غم، دل · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ابنِ مریم ہوا کرے کوئی‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 201 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

کوئی چاہے ابنِ مریم یعنی مسیحا ہونے کا دعویٰ کرے، مجھے تو اس سے غرض ہے کہ کوئی میرے دکھ کا علاج کرے۔ غالب بڑے دعووں اور معجزوں سے متاثر نہیں، انہیں حقیقی دوا چاہیے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار