shar' o aaeen par madaar sahiaise qaatil kaa kyaa kare koi
شرع و آئینshar' o aaeenشریعت اور قانون (religious and civil law)
مدارmadaarانحصار (reliance, basis)
قاتلqaatilمارنے والا (یہاں محبوب) (killer (here, the beloved))
آسان تشریح
مانا کہ ہر فیصلہ شریعت اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے، مگر ایسے قاتل کا کوئی کیا کرے؟ قاتل سے مراد محبوب ہے جس کی نظر عاشق کو گھائل کرتی ہے، اور کوئی عدالت اسے سزا نہیں دے سکتی۔
In plain English
Granted, everything should be judged by religious law and the rules of the land; but what can anyone do against a killer like this? The 'killer' is the beloved, whose glance wounds the lover, and no court can punish that.
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ابنِ مریم ہوا کرے کوئی» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 201۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ibn-e-maryam huaa kare koi”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 201. It means: Granted, everything should be judged by religious law and the rules of the land; but what can anyone do against a killer like this? The 'killer' is the beloved, whose glance wounds the lover, and no court can punish that.
کارڈ بنائیں
واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ابنِ مریم ہوا کرے کوئی‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 201 سے لیا ہے۔
اس شعر کا مطلب کیا ہے؟
مانا کہ ہر فیصلہ شریعت اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے، مگر ایسے قاتل کا کوئی کیا کرے؟ قاتل سے مراد محبوب ہے جس کی نظر عاشق کو گھائل کرتی ہے، اور کوئی عدالت اسے سزا نہیں دے سکتی۔