بات پر واں زبان کٹتی ہے — مرزا غالب

بات پر واں زبان کٹتی ہےوہ کہیں اور سنا کرے کوئی

baat par vaan zabaan katti haivoh kahen aur sunaa kare koi

  • واں vaanوہاں (there)
  • زبان کٹتی ہے zabaan katti haiبولنے کی سزا ملتی ہے (the tongue is cut off, speech is punished)

آسان تشریح

وہاں جواب میں بات کرنے پر زبان کاٹ دی جاتی ہے، اس لیے وہ بولیں اور کوئی بس سنا کرے۔ یہ ایسے تعلق کا بیان ہے جہاں صرف ایک فریق کو بولنے کی اجازت ہے۔

In plain English

Over there, a word in reply costs you your tongue; so let her talk and let the lover just listen. The couplet describes a relationship where only one side is allowed to speak.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ابنِ مریم ہوا کرے کوئی» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ibn-e-maryam huaa kare koi”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 202. It means: Over there, a word in reply costs you your tongue; so let her talk and let the lover just listen. The couplet describes a relationship where only one side is allowed to speak.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دل · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ابنِ مریم ہوا کرے کوئی‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

وہاں جواب میں بات کرنے پر زبان کاٹ دی جاتی ہے، اس لیے وہ بولیں اور کوئی بس سنا کرے۔ یہ ایسے تعلق کا بیان ہے جہاں صرف ایک فریق کو بولنے کی اجازت ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار