بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ — مرزا غالب

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھکچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

bak rahaa hoon junoon mein kyaa kyaa kuchhkuchh na samjhe khudaa kare koi

  • بک رہا ہوں bak rahaa hoonبے سوچے بول رہا ہوں (I am babbling)
  • جنوں junoonدیوانگی (madness, frenzy)

آسان تشریح

دیوانگی میں نہ جانے کیا کیا بول رہا ہوں؛ خدا کرے کوئی کچھ نہ سمجھے۔ عاشق اپنی بے اختیار باتوں پر شرمندہ بھی ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے راز چھپے رہیں۔

In plain English

In my madness I am blurting out all sorts of things; God grant that nobody understands a word. The lover is half ashamed of his own outpouring and hopes his secrets stay hidden.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ابنِ مریم ہوا کرے کوئی» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ibn-e-maryam huaa kare koi”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 202. It means: In my madness I am blurting out all sorts of things; God grant that nobody understands a word. The lover is half ashamed of his own outpouring and hopes his secrets stay hidden.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دل، زندگی · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ابنِ مریم ہوا کرے کوئی‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

دیوانگی میں نہ جانے کیا کیا بول رہا ہوں؛ خدا کرے کوئی کچھ نہ سمجھے۔ عاشق اپنی بے اختیار باتوں پر شرمندہ بھی ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے راز چھپے رہیں۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار