روک لو گر غلط چلے کوئی — مرزا غالب

روک لو گر غلط چلے کوئیبخش دو گر خطا کرے کوئی

rok lo gar ghalat chale koibakhsh do gar khataa kare koi

  • بخش دو bakhsh doمعاف کر دو (forgive)
  • خطا khataaغلطی (mistake, fault)

آسان تشریح

کوئی غلط راستے پر چلے تو اسے روک لو، اور کوئی غلطی کرے تو معاف کر دو۔ غالب دونوں باتیں کہتے ہیں: وقت پر روکنا بھی اور غلطی کے بعد معاف کرنا بھی۔

In plain English

Stop someone who is going the wrong way, and forgive someone who makes a mistake. Ghalib asks for both: correct people while you can, and pardon them once the mistake is made.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ابنِ مریم ہوا کرے کوئی» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “ibn-e-maryam huaa kare koi”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 202. It means: Stop someone who is going the wrong way, and forgive someone who makes a mistake. Ghalib asks for both: correct people while you can, and pardon them once the mistake is made.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: دوستی، ایمان اور خدا · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ابنِ مریم ہوا کرے کوئی‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 202 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

کوئی غلط راستے پر چلے تو اسے روک لو، اور کوئی غلطی کرے تو معاف کر دو۔ غالب دونوں باتیں کہتے ہیں: وقت پر روکنا بھی اور غلطی کے بعد معاف کرنا بھی۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار