داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئیاک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
daagh-e-firaaq-e-sohbat-e-shab ki jali huiik sham' reh gai hai so voh bhi khamosh hai
داغِ فراقdaagh-e-firaaqجدائی کا زخم (the scar of parting)
صحبتِ شبsohbat-e-shabرات کی محفل (the night's company)
آسان تشریح
رات کی محفل کی جدائی کے داغ سے جلی ہوئی ایک شمع رہ گئی ہے، اور وہ بھی بجھ چکی ہے۔ رات کی رونق صبح تک دھوئیں اور خاموشی میں بدل جاتی ہے؛ جو کچھ چمک رہا تھا سب ختم ہو گیا۔
In plain English
Burnt by the pain of parting from last night's company, one candle is left, and it too has gone out. The bright party of the night ends in silence and smoke; everything that dazzled is gone by morning.
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 159۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “zulmat-kade mein mere shab-e-gham kaa josh hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 159. It means: Burnt by the pain of parting from last night's company, one candle is left, and it too has gone out. The bright party of the night ends in silence and smoke; everything that dazzled is gone by morning.
کارڈ بنائیں
واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔
یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 159 سے لیا ہے۔
اس شعر کا مطلب کیا ہے؟
رات کی محفل کی جدائی کے داغ سے جلی ہوئی ایک شمع رہ گئی ہے، اور وہ بھی بجھ چکی ہے۔ رات کی رونق صبح تک دھوئیں اور خاموشی میں بدل جاتی ہے؛ جو کچھ چمک رہا تھا سب ختم ہو گیا۔