مے نے کیا ہے حسنِ خودآرا کو بے حجاب — مرزا غالب

مے نے کیا ہے حسنِ خودآرا کو بے حجاباے شوق، یاں اجازتِ تسلیمِ ہوش ہے

mai ne kiyaa hai husn-e-khud-aaraa ko be-hijaabai shauq, yaan ijaazat-e-tasleem-e-hosh hai

  • حسنِ خودآرا husn-e-khud-aaraaبنا سنورا حسن (self-adorned beauty)
  • بے حجاب be-hijaabبے پردہ (unveiled)
  • تسلیمِ ہوش tasleem-e-hoshہوش سونپ دینا (surrendering one's senses)

آسان تشریح

شراب نے سجے سنورے حسن کو بے پردہ کر دیا ہے؛ اے شوق، یہاں ہوش سونپ دینے کی اجازت ہے۔ جب محبوب بے نقاب ہو تو ہوش کھو دینا جائز ہے۔

In plain English

Wine has made the proud beauty drop her veil; O desire, here you are allowed to hand over your senses. When the beloved is unveiled, losing one's head is permitted.

مرزا غالب · دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157
کارڈ بنائیں

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل «ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے» سے، دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157۔This couplet is by Mirza Ghalib, from the ghazal “zulmat-kade mein mere shab-e-gham kaa josh hai”, Divan-e-Ghalib (Urdu), the Berlin edition (1925), p. 157. It means: Wine has made the proud beauty drop her veil; O desire, here you are allowed to hand over your senses. When the beloved is unveiled, losing one's head is permitted.

کارڈ بنائیں

واٹس ایپ اسٹیٹس، انسٹاگرام یا فیس بک کے لیے۔ شاعر کا نام اور کتاب کا حوالہ ہمیشہ کارڈ پر رہتا ہے۔

سائز
انداز
متن

موضوعات: عشق · غلطی کی اطلاع دیں

اس شعر کے بارے میں

یہ شعر کس کا ہے؟

یہ شعر مرزا غالب کا ہے، ان کی غزل ’ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے‘ سے۔ ہم نے اسے دیوانِ غالب (اردو)، نسخۂ برلن (1925)، ص 157 سے لیا ہے۔

اس شعر کا مطلب کیا ہے؟

شراب نے سجے سنورے حسن کو بے پردہ کر دیا ہے؛ اے شوق، یہاں ہوش سونپ دینے کی اجازت ہے۔ جب محبوب بے نقاب ہو تو ہوش کھو دینا جائز ہے۔

اسی غزل کے اور اشعار

پوری غزل

ملتے جلتے اشعار